عبرت ناک کہانی

ایک دن وہ اتفاق سے وقت سے پہلے گھر آ گیا جب یہ اپنے کمرے میں آیا اور نوجوان لڑکی کو صفائی کرتے ہوۓ دیکھا ، اس شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا کہ میں اس لڑکی کو روک لوں تو اس کی آواز کوئی نہیں سنے گا ، اگر یہ میری کسی سے شکایت بھی کرے گی تو کوئی اس کی بات کو نہیں مانے گا ،

میں تو پورے پولیس اسٹیشن خرید سکتا ہوں ملازمین سب میری بات مانیں گے ، لڑکی نے دیکھا کہ مالک وقت سے پہلے آگئے ہیں تو اس نے جلدی سے جانا چاہا تو مالک نے فوراً ایک زور دار آواز میں کہا ٹھہر جاؤ ، وہ مالک کے تیور دیکھ کر گھبر آگئی ، مالک نے کہاسب کھٹڑ کیاں دروازے بند کر دواب لڑ کی پریشان کہ میں کروں تو کیا کروں ۔

لیکن اس کے دل تقوی تھا اللہ کا خوف تھا ، آنسوں بہہ رہے ہیں اور اللہ سے دعاء بھی کر رہی ہے ، چنانچہ اس نے ایک ایک کر کے سب کھڑکیاں دروازے بند کرنا شروع کر دیے ، کافی دیر ہو گئی لیکن وہ آنہیں رہی تھی مالک نے ڈانٹ کر کہا کتنی دیر ہو گئی اب تک دروازے کھڑ کیاں بند نہیں کی اور تو میرے پاس آئی نہیں ؟

تو اس لڑکی نے روتے ہوۓ کہامالک میں نے سارے دروازے بند کر دیئے ساری کھڑ کیاں بند کر دی مگر ایک کھڑ کی کو بہت دیر سے بند کرنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔

لیکن مجھ سے بند نہیں ہو پارہی ہے ، تو اس نے غصے سے کہا وہ کونسی کھڑکی ہے جو تجھ سے بند نہیں ہو رہی ہے ؟ تو لڑکی نے کہا میرے مالک جس کھڑکیوں سے انسان دیکھتے ہیں جن کھڑکیوں سے مخلوق دیکھتی ہے میں نے وہ ساری کھڑ کی بند کر دی لیکن جس کھڑکی سے رب العالمین دیکھتا ہے ۔

اس گھڑ کی کو بہت دیر سے بند کرنے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن مجھ سے بند نہیں ہو پارہی ہے اگر آپ سے بند ہو سکتی ہے تو آکر بند کر دیں فورآبات سمجھ میں آ گئی کہ واقعی میں اپنے گناہوں کو کو انسانوں سے چھپا سکتا ہوں لیکن رب العالمین سے نہیں چھپا سکتا وہ اٹھا جلدی سے وضو کیا نماز پڑھی اللہ سے معافی مانگی ۔

ہم میں سے ہر شخص غور کر میں کوئی اس کھٹر کی کو بند کر سکتا ہے جس سے رب العالمین دیکھتا ہے تو پھر ہم جرآت کے ساتھ گناہ کیوں کرتے ہیں تو پھر ڈٹائی کے ساتھ گناہ کیوں کرتے ہیں ؟ وقتی طور پر نفس کا غالب آ جانا یہ الگ بات ہے لیکن ہم گناہ کرتے ہیں اور گناہ پر گناہ کرتے جاتے ہیں عادت ہوتی ہے

ہمارے گناہ کرنے کی ہم گناہ کو مکھی کی طرح سمجھتے ہیں پھونک ماری یوں اڑا دی۔اللہ پاک ہم سب کو یقین کی دولت سے مالا مال فرماۓ اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطاء فرماۓ آمین ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *